Pakistani Husband and Wife in UAE and Corona Virus News

Pakistani Husband and Wife in UAE and Corona Virus News

SHARE
Pakistani Husband and Wife in UAE and Corona Virus News
Pakistani Husband and Wife in UAE and Corona Virus News

دبئی (نیوز ڈیسک)”میں کئی بار خود کُشی کا سوچ چکا ہوں۔ اب کوئی اُمید باقی نہیں رہی۔“ یہ الفاظ دُبئی میں مقیم ایک پاکستانی کے ہیں جو اس وقت اپنے گھر والوں سمیت شدید پریشانی اور مصائب میں گھرا ہوا ہے اس خاندان پر ایک سے بڑھ کر ایک مصیبت آن پڑی ہے۔ گلف نیو زکی رپورٹ کے مطابق احمد سہیل زین جو النہدہ کے علاقے میں اپنی بنگالی بیوی شمیمہ فوزی اور دو کم عمر بچوں کے ساتھ مقیم ہے، زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ زین جو کورونا وبا کے دوران بے روزگار ہو چکا تھا، چند روز پہلے وہ اور اس کی بیوی دونوں کورونا کا شکار ہو گئے۔ جبکہ دونوں بچے سکول فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے کئی ماہ سے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سہیل کی بیوی شمیمہ کی کورونا کے باعث حالت اتنی بگڑچکی ہے کہ اس وقت وہ الزاید کے ایک ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر پڑی زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہی ہے۔زین نے لوگوں سے مالی امداد اور ملازمت کی درد بھری اپیل کر دی ہے۔
47 سالہ زین نے بتایا کہ وہ 2014ء میں دُبئی آیا تھا۔ جہاں وہ دُبئی کی ایک مشہور سیکیورٹی فرم میں سینیئر آپریشنز مینجر کے عہدے پر تعینات رہا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا، پھر اچانک 2019ء میں اس کی نوکری چلی گئی۔ تاہم اس دوران اس کی 40 سالہ بیوی شمیمہ فوزی جو ایک سکول میں مونٹیسری ٹیچر تھی، وہ گھر کا خرچہ چلاتی رہی۔ مجھے اُمید تھی کہ سیکیورٹی سیکٹر میں میرا جتنا شاندار تجربہ رہا ہے، جلد اچھی ملازمت مل جائے گی۔ مگر کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے باعث سب اُمیدیں تہس نہس ہو گئیں۔ میں اپنی 19 سالہ بیٹی فضہ اور 16 سالہ بیٹے احمد ارحم کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا تھا،سو اپنی فیملی کے مستقبل اور ملازمت کی تلاش کی خاطر ویزہ بھی حاصل کر لیاتھا۔مگر کورونا وبا کے دوران مجھے کیا ملازمت ملنی تھی، میری بیوی کو بھی سکول ملازمت سے جواب ہو گیا۔ میں نے تب بھی اُمید نہیں چھوڑی اور ابھی تک مختلف اداروں میں ملازمت کے لیے اپلائی کر رہا تھا۔“
پاکستانی شہری زین نے مزید بتایا”مگر حالات مزید بدتر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ خراب مالی حالات کے باعث میرے بچوں کی سکول فیس ادا نہ ہو سکی، اور اب وہ بیچارے مایوس ہو کر گھر میں بیٹھ گئے ہیں۔ میں اس وقت اتنا پریشان ہوں کہ کئی بار خود کُشی کا سوچ چکا ہوں۔یہاں تک کہ میں نے پچھلے 9 ماہ سے اپنے فلیٹ کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا۔ پھر بھی ایک آس ہے کہ کوئی نہ کوئی مجھے ملازمت دے کر اس پریشانی کے دور سے نکالنے میں مدد دے گا۔ میں اپنے بچوں کا کیریئر جاری رکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے اُمید ہے کہ امارات میں موجود پاکستانی اور دیگر ممالک کے لوگ اس مشکل گھڑی میں میری مدد کریں گے۔“