Kotli News

Kotli News

SHARE

جراہی ۔(نامہ نگار )عرفاق پٹواری دولیاہ جٹاں جو کے انتہائی کرپٹ اور سرکاری رقبہ جات پر قبضہ/تعمیرات کروانے کا ماہر ہے۔عرصہ تین سال سے زائد ہوا حلقہ دولیاہ جٹاں میں تعینات ہے ۔ ۔چوہدری محمد عدیل کی اعلی حکام سے اس کے خلاف تحقیقات کر کے معطل کر کے تبدیل کرنے کی اپیل ۔۔تفصیلات کے مطابق ۔عرفاق پٹواری کا ستایا ہوا ایک اور شخص صحافی حضرات کے پاس پونچ آیا ۔چوہدری عدیل گاوں حال دولیاہ جٹاں نے کہا ہے کہ عرفاق پٹواری نے دوران تعیناتی ایکٹ 1989کے نام پر پٹوار حلقہ پراہی میں وسیح پیمانے پر خالصہ سرکار میں خرد برد کی ہے ۔اب عرصہ تین سال سے پٹوار حلقہ دولیاہ جٹاں میں خالصہ سرکار ۔جنگلات ۔اور شاملات دھ پر تعمیرات ۔تجاوزات کرانے پر مامور کیا گیا ہوا ہے ۔آخری مرلے پر قبضہ کا انتظار کیے بغیر کرپٹ پٹواری کے خلاف باضابطہ تحقیقات کر کے معطل کیا جائے ۔اگر سرکاری رقبہ پر قبضہ مافیہ سرگرم عمل ہو تعمیرات ۔تجاوزات کر رہا ہو اور اس کو اطلاع دی جائے تو بغیر موقع و ریکارڈ دیکھے کہتا ہے کہ رقبہ ملکیت ہے ۔تعمیر ۔تجاوزات مکمل ہونے پر با امر مجبوری۔عوامی ۔اور صحافتی رد عمل کے ڈر سے رپورٹ کرتا ہے کہ رقبہ خالصہ سرکار/شاملات ہے دفعہ 144کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔خلاف ورزی کرنے والے کو کہتا ہے کہ 500/1000روپے جرمانہ ہوگا اور قبضہ پکا ہوجائے گا ۔کوئی مسمارگئ یا بے دخلی نہیں ہو گی ۔جسکی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔جب سے یہ پٹواری دولیاہ جٹاں میں تعینات ہے وسیح پیمانے پر سرکاری رقبہ جات پر قبضہ میں تعمیرات اور تجاوزات ہوئی ہیں ۔اس سے قبل قبل یہ پٹواری پٹوار حلقہ پراہی میں بھی تعینات رہا ہے جہاں پر ایکٹ 1989کے نام پر وسیح پیمانے پر سرکاری رقبہ خالصہ سرکار خلاف حقائق خلاف موقع اور خلاف ریکارڈ رپورٹ ہا کی بنیاد پر خرد برد کروا چکا ہے ۔چیرمین احتساب بیورو ۔چیف جسٹس آزاد کشمیر ۔چیف سیکٹری آزاد کشمیر سے درخواست ہے کہ سپیشل کمیشن بنا کر ایکٹ 1989کی اڑ میں سرکاری رقبہ خرد برد اور سرکاری رقبہ پر بدوں منظوری اجازت قبضہ کروانے کی بابت تحقیقات کروا کر کرپٹ پٹواری کے خلاف باضابطہ کاروائی فرمائے جاے ۔آگر گڈ گورنس کے دعویدار جناب وزیراعظم آزاد کشمیر اس سارے معاملے کی تحقیقات کروسکیں تو ان پر بھی گڈ گورنس کی حقیقت عیاں ہو سکتی ہے ۔۔۔ اس پٹواری کے خلاف درجوں درخواستیں کمشنر میرپور ۔ ڈی سی کوٹلی ۔اسسٹنٹ کمشنر دولیاہ جٹاں ۔تحصیلدار دولیاہ جٹاں ۔کو بہت سے افراد دے چکے مگر کوئی بھی اسکے خلاف کارروائی نہیں کر سکا ۔لگتا ہے کے موصوف بہت پاور فل ہیں ۔یہ ان کو اس خاص مقصد کے لیے ہی افسران نے اپنی مرضی سے رکھا ہوا ہے ۔جو کہ عرصہ تین سال سے زائد ہونے کے تبدیل نہیں کرتے ۔