Kashmir AJK

Kashmir AJK

SHARE

مظفرآباد۔14اور 15اگست 1947 کو دو آزاد ملک پاکستان اور بھارت وجود میں آئے تو برصغیر پاک وہند میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے۔ بڑے پیمانے پرمسلمانوں اور ہندوئوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی تھی اور لاکھوں لوگ فسادات کی نذر ہوگئے۔ لاکھوں کو اپنا گھر بار ، جائیداد اورمال و اسباب چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لئے ایک ملک سے دوسرے ملک پناہ لینے کا تکلیف دہ مرحلہ طے کرنا پڑا۔ 
پاکستان اور بھارت نے تو 14 اور 15اگست 1947 کی درمیانی شب میں آزادی حاصل کرلی مگر ریاست جموں و کشمیر نے 27اکتوبر 1947کو اپنا حق خود ارادیت کھو دیا تھا۔۔
 ریاست جموں و کشمیرایک مسلم اکثریت ریاست تھی اوربرصغیر کی ایک خوشحال ریاست تصورکی جاتی تھی مگر ڈوگرہ حکمرانوں کی وجہ سے اکثریت مسلم آبادی استحصال اور ظلم و ستم کا شکار تھی۔ پاکستان اور بھارت کی طرح کشمیری عوام بھی شخصی حکومت کے چنگل سے نکل کر آزاد فضائوں میں سانس لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ میرپور، مظفر آباد اور راولاکوٹ کے حریت پسند مجاہدین نے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت کردی۔ اور انہوں نے 24 اکتوبر 1947 کو مظفر آباد،راولا کوٹ،میرپور اور گلگت بلتستان آزاد کرا لیا ۔ مجاہدین جن کو قبائلیوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ ڈوگرہ فوج سے لڑتے ہوئے سرینگر کے ہوائی اڈے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ کشمیری مجاہدین کی پیشقدمی جاری تھی کہ بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ مل کر کشمیریوں کے خلاف توسیع پسندانہ چال چلی۔
 پنڈت جواہر لال نہرو نے مہاراجہ کشمیر سے بھارتی فوجیں کشمیر میں اتارنے سےپہلے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے کیلئے دبائو ڈالا حالانکہ مہاراجہ کشمیر اس سے قبل 12 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت کو’’ سٹینڈ سٹل اگریمنٹ ‘‘ کی پیشکش کرچکا تھا اور جس کو پاکستان نے قبول کرلیا تھا مگر جواہر لال نہرو کے دل میں کشمیر پر قبضہ کرنے کی نیت تھی۔مجاہدین کے خوف سے مہاراجہ سرینگر سے بھاگ کر جموں پہنچ چکا تھا۔ 
ریاست جموں کشمیر کے وزیراعظم مہر چند مہاجن مہاراجہ کشمیر کا پیغام لے کربھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے پاس نئی دہلی جا پہنچے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کو کہا کہ ’’فوج دیجئے، الحاق کیجئے اور جو بھی اختیارات چاہئیں عوامی پارٹی (نیشنل کانفرنس) کو دیجئے۔ لکین آج ہی ہوائی جہاز سے فوج سرینگر روانہ کردیجئے ورنہ میں جناح صاحب کے پاس جاکر مصالحت کروں گا۔نہرو یہ سنتے ہی اگ بگولہ ہوگئے اور مہاجن کو کہا کہ پاکستان سے سمجھوتے کا شوق ہے تو فوراً یہاں سے چلے جائو۔شیخ محمد عبداللہ اس موقع پر موجود تھے انہوں نے پنڈت نہرو کو اس موقع پرخفا نہ ہونے کا مشورہ دیابلکہ جلد از جلد اقدام کرنے کا کہا اگر تھوڑی سی تاخیر ہوگئی تو پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ سانپ نکل جائے گا اور ہم لکیر پیٹتے رہ جائیں گے۔ میں نے (شیخ عبداللہ) نے پنڈت جی کو یہ اطلاع بھی دی کہ نیشنل کانفرنس کی تائید اس فیصلے کے ساتھ ہے۔ اس سے انہیں ایک گونہ اطمینان حاصل ہوا۔ وہ اندر گئے اور مہاجن صاحب سے کہا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی شیخ عبداللہ کا خیال ہے اور اس طرح دستاویز الحق پر دستخط کردیئے گئے۔ مہاجن نے اس واقعہ کے متعلق بعد میں لکھا کہ ایسے آڑے موقع پرشیخ عبداللہ کی مدد کا ہمیشہ ممنون رہوں گا کیونکہ انہوں نے بر وقت پیغام دے کر کشمیر کو پاکستان بننے سے بچا لیا‘‘۔ (شیخ محمد عبداللہ:آتش چنار۔ صفحہ 287) ۔
27اکتوبر 1947کے دن بھارتی حکومت نے سرینگر فوج پہنچانے کیلئے بے حد پھرتی کا مظاہرہ کیا۔ رائل انڈین ایئرفورس کے علاوہ تقریباً تمام شہری جہاز بھی طلب کرلئے گئے اور تقریباً ایک سو جہازوں نے بھارتی فوج سرینگر اتار دی ۔
27اکتوبر 1947 صبح تڑکے پہلی سکھ رجمنٹ کے سپاہیوں کا پہلا دستہ سرینگر بھیج دیا گیا۔ بھارتی فوجوں کے کشمیر پہنچتے ہی ہندو انتہا پسندوں اورجن سنگھیوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ مجاہدین کی سرینگر کی طرف پیش قدمی رک گئی۔ کشمیری مجاہدین کو قبائلی قرار دے کر چن چن کر قتل کیا گیا۔ صرف جموں میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو بھارتی فوجوں ، ہندو انتہا پسندوں اورجن سنگھی غنڈوں نے قتل کردیا ۔
27اکتوبر 1947سےلے کر آج تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی دندناتے پھر رہے ہیں ۔1947میں قبائلیوں کو ختم کرنے کے نام پر 1989میں پاکستانی مداخلت کے نام پر اور 2016 سے دہشت گردی کے نام پر کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے مگر تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ 
1931سے جاری جنگ آزادی کشمیریوں کی اپنی جنگ ہےپہلے ڈوگروں کے خلاف 1947سے بھارتی غاصب فوجوں کے خلاف اور اسی تسلسل میں1989کی جنگ آزادی اور اب 2016عوامی جدوجہد کشمیریوں کی اپنی آزادی کی جنگ ہے۔ مقبول بٹ، افضل گرو اور اب برہان وانی سمیت کشمیری رہنمائوں کی قربانی آزادی کے حصول کیلئے ہے آج لاکھوں کشمیری سرینگر سمیت کشمیر کے دس اضلاع کی سڑکوں پر ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارتی فوجیو کشمیر سے نکل جائو۔ 1947میں نہرو نے کشمیر میں فوجیں بھیج کر اس پر غاصبانہ قبضہ کیا جو کہ ہنوز جاری ہے اب گجرات کا مودی کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے ظلم کا ہر ہتھکنڈا استعمال کررہا ہے۔مگر تاریخ کا یہ فیصلہ ہے کہ ظالم اور مظلوم کے بیچ لڑائی میں فتح ہمیشہ حق و انصاف کی ہوتی ہے۔

SHARE
Previous articlePM AJK Raja Farooq Haider News
Next articlePM AJK News